صوفیانہ کلام انسانیت کو بیدار کرنے کا واحد ذریعہ! سونل شاہ

سہا رنپور( احمد رضا) صوفی ازم کی تعلیم کو عام کرنیکے لئے صوفیہ کلام کی عظیم فیلڈ میں سنجیدہ غزل گوئی اور نعتیہ کلام پیش کرتے ہوئے گجرات اور ممبئی کے پاش علاقہ میں پرورش پاکر انہی علاقوں میں پڑھی لکھی سونل شاہ نے اپنی کم عمری سے ہی صوفی ازم کو اپنا مقصد بناکر اور شہر در شہر اپنے صوفیانہ کلام سے انسانت کو بیدار کرنے، انکساری، صبر اورتقویٰ پر منحصر تعلیم کو عام کرنیکی جو چھاپ کم عمری سے ہی پوری صوفی ازم سے متاثر اقوام کے سامنے پیش کی اسکی جس قدر تعریف کیجائے وہ کم ہی رہیگی اسکے علاوہ سونل شاہ نے عظیم اکابرین کی غزلیات اور صوفیانہ کلام کو اپنی ہی سہل اور خوشگوار اردو فارسی زبان میں اپنے پر کشش انداز میں سبھی کے سامنے پڑھ کر جو چھاپ چھوڑی اسکی نظیر آج اس عدم رواداری کے دور میں کم ہی دیکھنیکو ملتی ہے صوفیانہ کلام کی ملکہ سونل شاہ کی خدمات کو سبھی قبول کرتے ہیں! ہمارے ملک میں یوں تو سیکڑوں گلوکار موجود ہیں مگر ملک کی نامور صو فیانہ سنگر سونل شاہ نے پچھلے ۲۸ سالوں سے اپنے کلام کے ذریعہ جو روحانی کلام کے ذریعہ خلوص و پیار اور انسانی جذ بات کی مٹھاس کروڑوں عوام کے دلو ں میں پیدا کی وہ ایک غیر معمولی گلوکاری کے اہم ہنر کی شاندار مثال ہے جسکی تعریف ہر سمت اکثر کیجاتی ہے بقول سونل شاہ عظیم اکابرین کا لکھا ہوا صوفیانہ کلام ہمارے روح کی طاقت ہے اور سونل اسی کلام میں مست رہکر عالم میں پیارو محبت کا جو انسایت بھرا پیغام پہنچارہیہیں وہ ایک عظیم کار نامہ ہے ! ملک کے نامور صوفیانہ کلام کے سنگرس میں سونل شاہ کا نام کسی تعارف کا محتاجنہی ہے جناب جگموہن پٹیل اور محترمہ آنند پٹیل کی خش اخلاق پوسٹ گریجوایٹ اور ووکل میوزک اور صوفیانہ کلام کے ساتھ ہی ساتھ غزل کمپوزنگ اور گائیکی میں گولڈ میڈل حاصل کر گجرات اور ممبئی کے ساتھ ساتھ پاکستان ، دبئی ، کابل اور نیپال کے کئی شہروں میں اپنے کلام کا لوہا منوانے والی سونل شاہ کے شوہر کانام ہے متیش شاہ اسمیں کوئی دورائے نہی کہ سونال شاہ جس گھرانہ سے اس صوفیانہ اور غزل گائکی کے میدان میں اس طاقت سے ابھر کر آئی ہیں وہ سہی معنوں میں بڑی ہونہاری اور بہادری کی علامت ہے سچائی بھی یہی ہیکہ قابلیت بولتی ہے اور خد ہی ظاہر ہوجاتی ہے ،سونل شاہ نے بچپن ہی سے ؑ ظیم الشان شخصیات حضرت امیر خصروؒ ، ، بابا بلے شاہؒ ، بیگم وارثی، حضرت شاہ نیازؒ اور صوفی غلام مصطفیٰ تبسم ؒ اور جگر مراد آبادی کے علاوہ نظیر اکبر آبادی کے صوفیانہ کلام کی تربیت حاصل کرتے ہوئے کم عمر سے ہی محترمہ سونا ل شاہ نے ان اکابرین اور جید شاعروں کے کلام کو پڑھ کر ملک اور غیر مملک کے سینئر سنگرس کے درمیان صرف ساست سال کی کم عمری سے ہی جدوجہد کرتے ہوئے غزل اور صوفیانہ کلام کی ؑ ظیم فیلڈ مین اپنی جو چھاپ چھوڑی اسکی نظیر آج کے دور میں کم ہی ملتی ہے سونل شاہ نے پچھلے ۲۸ سالوں کی محنت ولگن سے عالمی اسٹیج پر جو رتبہ جمایاہے وہ ایک غیر معمولی ہنر کی شاندار مثال ہے ! ملک کے بیشتر حصوں میں بہت سے انعام و اعزازات سے نوازے جاچکے راجندر سنگھ اروڑہ دلدار دہلوی نے اردو شاعری کے تعلق سے ہندی ، پنجابی اور اردو کے قیمتی کلام میں ملک اور غیر ممالک کے عوام کیلئے آپسی میل ملاپ اور اخلاص کا جو پیغام عام کیاہے وہ بہت کم ہی دیکھنے کو مل تاہے اسمیں کوئی شک نہی کہ دلدار دہلوی ایک سنجیدہ مزاج شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں اردو شاعری کے ساتھ ساتھ ہندی پنجاپی کیلئے بھی جو کچھ درد دہلوی نے لکھا اور پڑھا وہ کافی سراہاگیاہے!