اردو زبان کو بلندی اور رونق عطا ء کرنیوالامعتبرنام ہے چاند میسوری!

سہارنپور( احمد رضا)ملک کے نامی گرامی شعراء میں آجکل چاند میسوری کا نام بڑے ادب واحترام سے لیا جاتاہے گزشتہ چھ سال کی مدت میں اتر پردیش ، مہاراشٹرا، کرناٹک ، تلنگانہ اور بہار کے کتنے ہی چھوٹے بڑے اضلاع میں منعقد ہونیوالے مشاعروں میں عمدہ کلام کہنے ، مقالات کہنے اور لکھنے کیلئے چاند میسوری کو درجنوں اعزازات سے نوازا جاچکا ہے جسمیں ملک کے نامور شعراء کرام نے شرکت فرماکر چاند میسوری کے مقالات اور سنجیدہ شاعری کوخوب سراہا اس موقع پرمہمان شعرائے کرام نے ایسی ہر ایک تقریب میں چاند میسوری کی سراہنا کرتے ہوئے چاند کو سہی معنوں میں اردو شاعری کی روح بتاتے ہوئے انکے کلام کی خصوصیات پر روشنی ڈالی ان شاندارتقاریب میں بزرگ اور معزز شعراء صاحبان نے بھی اپنے کلام سے ہزاروں سامعین کو راحت بخشی اور داد حاصل کی اس خاص موقع پر اردو کو زندہ رکھنے والوں، مشاعروں میں رونق پید ا کرنیوالوں اور اردو دوستوں کے جذبہ کو سلام کرتے ہوئے چند معزز لب ولہجہ کے ادبی دوستوں کے علاوہ عزیز بیلگامی نے بھی ابھرتی ہوئی شاعرات کی بھر پور حوصلہ افزائی کی اور انکو دعائیں دیتے ہوئے انہوں نے فرمایاکہ نوجوان شاعروں کو ابھی اور محنت درکار ہے! کرناٹک کے میسور شہر میں بیگم رضیہ سلطانہ اور شیخ عبدالصمد کے گھرانہ میں پیدا ہوکر پرائمری درجہ سے بی اے کی تعلیم میسور یونیورسٹی سے ہی حاصل کی سولہ سال کی عمر سے ہی چاند کو ارودو ادب سے حد درجہ محبت تھی دھیرے دھیرے یہ محبت آج اردو ادب کا جسم اور روح بن گئی ہے چاند میسوری کا کلام پڑھنے اور لکھنیکا انداز بس دیکھتے اور سنتے ہی بنتاہے چاند میسوری ابھی تک ملک اور غیر ممالک میں تین درجن سے زائد معیاری مشاعروں کی رونق بن کر سامعین سے داد سخن اور قیمتی اعزازات حاصل کر چکی ہیں! چاند میسوریڈاکٹر مہ جبیں نجم کے افسانہ(پیاس) پر لکھے مقالہ پر پہلی مرتبہ چاند کو خوب داد حاصل ہوئی پھر لگاتار چاند آگے بڑھتی ہی گئی اور آج ای ٹی وی، زی سلام اور دوردرشن کے بہت سے اہم پروگراموں میں چاند میسوری نے اپنی موجودگی کا سامعین کو اپنے عمدہ کلام سے خوب احساس کرایا اور بہت سے انعامات بٹورے!آپکی پہلی کتاب ۲۰۱۳ میں ( دوگز زمین) منظر عام پر آئی یہ ایک پر اثر تحقیقی مقالہ ہے جس میں ملک بھر کے ادیبوں کے۱۳۶ انشائیہ شامل ہے یہ سات سو صفحات پر مبنی ایک مکمل اور ذہن پر اچھا ڈالنے کی قوت رکھتی ہے علاوہ ازیں چاند میسوری کا ایک نادر مجموعہ کلام در نایاب کی شکل میں زیر ترتیب ہے جو جلد ہی منظر عام پر آنے جارہاہے! اپنی ہر تقریب میں چاند میسوری نے اکثر سامعین، مہمانوں اور میز بان حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایاکہ ارود شاعری انسانوں کے دلوں کو جوڑنیکا قابل قدر عملی کام انجام دیتی ہے ہماری اردو محبت پہلے بھی زندہ طلثماتی وجود کی حامل رہی ہے اور آج بھی اردو شاعری ایک معجزہ سے کم نہی دنیاکے لاکھوں شعراء اپنے اپنے انداز میں شعر لکھتے اور پڑھتے ہیں اور ہر شعر کا مفہوم جدا مگر اردو کے جسم کو توانائی بخشنیوالا ہوتاہے پورے عالم میں اردو شاعری نے ہمیشہ انسانی قدروں اور انسانی محبتوں کے چراغ جلائے ہیں آج ہم جس مقام پر بھی ہیں یہ سبھی آپ سبھی کا پیار اور دعائیں ہی ہیں یوپی میں گزشتہ دنوں کانپور، جھانسی، مغل سرائے اور الٰہ آباد کے اپنے مشاعروں میں زبردست استقبال اور تالیوں کی گرج کے درمیان اس پر امن اور مہذب خطہ کے افراد کے ادبی شعور اور شوق کی تعریف کرتے ہوئے چاند میسوری نے کہاکہ آپکی دعاؤں اور حوصلہ نے مجھے اور میرے قابل احترام بڑے بزرگ شعراء حضرات کو اس مقام پر پہنچایاہے ہم اپنے سامعین کے بہت بہت شکر گزار ہیں! اس سخت دور میں اپنے سنجیدہ کلام سے چاند میسوری ارود زبان کے ذریعہ مشاعروں کو جو تقویت اپنی سہل اردو والی شاعری کے ذریعہ عطا کر رہی ہیں اس عمدہ عمل کی جس قدر بھی تعریف کی جائے وہ کم ہی ہے یوں تو اس ملک کے عظیم کے مختلف قصبوں، شہروں اور کوچوں میں ایک سے بڑھ کر ایک شاعر پید اہوئے ہیں جو آج عالم کے ادبی حلقوں میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں مگر کم عمری اور بہت تھوڑے تجربہ سے ہی ادب نواز اردو دوستچاند میسوری نے اپنے کلام سے دنیا بھر کے مشاعروں میں اپنی سنجیدہ شاعری سے اردو کو جو بلند مقام عطا کیا وہ واقعی قابل تعریف عمل ہے!