بھگواعناصرکی اشتعال انگیزی دلت اور مسلم طبقہ کیلئے بڑاخطرہ  فرقہ پرستوں کو دھول چٹانیکے لئے بی ایس پی ہی کافی! شادان مسعود

سہارنپور(خاص خبر احمد رضا) گزشتہ اپریل۲۰۱۷ میں بابا صاحب امبیڈ کر کی جینتی کے بعد جبریہ طور سے گاؤں دودھلی میں بھاجپائی کارکنان نے شوبھا یاترا نکال کر یہاں تعصب اور نسلی تکرار کا جو بیج بویاتھا وہ آج بھی باعث فکر بناہوا ہے دودھلی کے چند دن بعد ہی بھاجپا کے ٹھاکروں نے شبیر پور میں مہارانہ پرتاپ کی شوبھا یاترا نکال کر دلتوں کو قابل رحم حالت میں پہنچا دیا نتیجہ کے طور پر آج بھی ضلع میں دس ماہ بعد نسلی تکرار کی جنگاری اندر ہی اندر گرماہٹ پیدا کر رہی ہے سرکار یہ چاہتی ہے کہ پولیس کی طاقت سے وہ ان دلتوں کو خاموش کردیگی مگر ایسا نظر نہی آرہاہے اگر دلتوں کو چھوا بھی گیا تو حالات بد سے بد تر ہوسکتے ہیں آج ضرورت ہے دلتوں کے ساتھ انصاف کرنیکی دلت آرمی نے چندر شیکھر کی رہائی کی مانگ کو لیکر ۱۸ فروری کو بغیر اجازت کانشی رام آواس پریسر میں بڑی ریلی منعقد کر کے سرکار کو چیلنج کیاہے کہ اگر بھیم آرمی قائد چندر شیکھر عرف راون سے جلد ہی این ایس اے نہی ہٹائی گئی تو دلت سماج ۸ مارچ سے یہاں جیل بھرو تحریک شروع کریگا کسی بھی انہونی کیلئے سرکار انتظامیہ ہی ذمہ دار ہوگی ؟بھاجپاکے ممبر لوک سبھا اور ممبران اسمبلی نے گزشتہ سال ماہ اپریل میں گاؤں دودھلی میں بنا اجازت بابا صاحب کی شوبھا یاترا نکال کر ماحول کو زہر آلودہ کرنیکا شرمناک کھیل کھیلا اور ضلع کا پر امن ماحول ہندومسلم فساد کی خبروں سے شرمندہ ہوکر رہگیا مگر بھاجپائی اس پر بھی چپ نہی ہوئے اور پھر سے چند روز بعد ہی تھانہ بڑگاؤں کے دیہات شبیر پورہ میں جبریہ طور سے بنا اجازت مہارا پرتاپ کی شوبھا یاترا نکال کر دلت فرقہ کو اپنی رنجش کا نشانہ بنایا اس واردات سے ٹھاکروں اور دلتوں میں بھاری ٹکراؤ پتھراؤ، آگ زنی اور فائرنگ تک جا پہنچا نتیجہ کے طور پر دلتوں پر کافی ظلم ڈھائے گئے صاف ہیکہ دس دن قبل مسلم فرقہ پر اسکے بعد دلت فرقہ پر اسی انداز میں حملہ کیا جانا اس بات کو سچ ثابت کرنیکے لئے کافی ہے کہ بھاجپائی، ہندو یوا واہنی اور بجرنگ دل کے لوگ بدلہ کی سیاست کو طاقت پہنچا رہے ہیں۔ مندرجہ بالا واردات کو دھیان میں رکھتے ہوئے آج بہوجن سماج پارٹی کے سینئر قائد مہی پال سنگھ اور قاضی شادان مسعود نے کہا کہ جس طرح سے بھاجپائی، ہندو یوا واہنی، آر ایس ایس اور اسکی ہم فکر جماعتیں ملک میں تشدد، فرقہ وارانہ فسادات، ظلم ، مذہبی نفرت ،ناانصافی ،ذات پات اوراونچ نیچ کی کھائی پیدا کرنیکی ناکام کوششیں کر رہی ہیں انہی حرکات کی وجہ سے آج ہمارے پر امن ملک میں آپسی مذہبی انتشار اورافراتفری پھیل رہی ہے اگر ان واراداتوں پر پر فوری توجہ نہیں دی گئی تو یہ آگے چل کر اس طرح کی وارادتیں ناسور کی شکل اختیار کر سکتی ہیں ! بہوجن سماج پارٹی کے سینئر قائد قاضی شادان مسعود اور سابق ممبر اسمبلی مہی پال سنگھ نے صاف کہاکہ مرکز کی بھاجپا حکومت آرایس ایس کے ایجنڈے کو لاگو کرے گی تو ملک کا پچھڑا ،دلت اور اقلیتی طبقہ اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کرے گا وہ سڑکوں پر اتر کر اپنے آئینی طور سے اپنے سبھی بنیادی حقوق کولیکر ہی رہے گاوہ وقت آگیاہے جب دس فیصد لوگ ملک کے نوے فیصد لوگ کو غلام ہی نہیں بنایا بلکہ انہیں ان کے حقوق سے بھی محروم کر دیا ہے اور آج بھی گاؤں دیہات میں مسلم افراد، دلت فرقہ کے علاوہ پچھڑوں ا ور غریبوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بناکر سبق سکھانے کی نظر سے انہی کو ستایا جا رہا ہے یہ بات بھی اہم ہے کہ سڑک دودھلی اور شبیر پورہ میں جو کچھ بھی ہوا اسکیلئے بھاجپا ایم پی اوقر ممبران اسمبلی ہی ذمہ دارہیں مگر پولیس اور انتظامیہ انکے خلاف ایکشن لیناہی نہی چاہ رہی ہے صرف اور صرف بھیم آرمی اور دلت فرقہ کوہی نشانہ پر رکھا گیاہے جو غلط سوچ کا نتیجہ ہے ایسی گھٹیا سوچ کے باعث ہی آج عوام میں غصہ بڑھتا جارہاہے؟ قاضی شادان مسعود نے کہا کہ آج ہماری جانب سے اسی گندی اور منافرت پھیلانے والی سوچ کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہر سطح پر کوشش کیجارہی ہے تاکہ تشدد اور جبر کو ووٹ کی طاقت سے روکا جاسکے دونوں قائدین نے کہا مرکزا و رریاستی یوگی حکومت کو چاہئے کہ دلت، مسلم اور کمزور فرقہ پر ہونے والے تشدد کو فوری طور سے روکے اور انکے ساتھ انصاف کرتے ہوئے انکے جائزمسائل کو بھی فوقیت کیساتھ حل کریں ورنہ ظلم اور جبر کے خلاف شروع ہونے والے پر امن عوامی آندولن کو روکا نہیں جا سکیگا دونوں لیڈران نے دلتوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے انکی مدد کی یقین دہانی کرائی!قاضی شادان مسعودنے یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس کا قیام ہی نفرت پھیلانے کے لئے کیا گیا تھااسی آر ایس ایس نے ملک کو تقسیم کر وایا ،گاندھی جی کو قتل کروایا ،اور آج بھی اقلیتوں ،دلتوں ،پچھڑوں کو مذہب کے نام پر بانٹ کر اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں شادان نے یہ بھی کہا کہ یہ ایسے بے رحم لوگ ہیں جو لاشوں پر چلتے چلے جائیں گے،علاقہ کے علاقہ جلاتے چلے جائیں گے ،مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں ،کیونکہ انہیں ۲۰۱۹ میں پھر سے مرکزی اقتدار چاہئے ،اقتدار کے لئے ملک میں کچھ بھی کرا سکتے ہیں ! دونوں لیڈران نے یہ بھی کہا کہ آج پورے ملک میں ان کادبدبہ ہے ،یہ کچھ بھی کریں انہیں پوری چھوٹ ہے جہاں ونے کٹیار ، سنگیت سوم ، سنجیو بالیان اور سریش راناکے بیان پر کوئی کاروائی نہیں ہو گی وہیں دلت اور مسلم افراد پر بلا وجہ درجنوں مقدمات لاگو کئے جاتے ہیں ؟اس طرح ناانصافی اقلیتوں کے ساتھ کی جاتی ہے اس سے یہ سماج اپنے حقوق اور ناانصافی کے لیئے کوشش کر سکتا ہے آج ملک میں عیسائیوں اور آدی واسیوں کے ساتھ بھی ناانصافی کی جا رہی ہے حد تو جب ہو جاتی ہے جب سرکاری عملہ انہیں آر ایس ایس کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے تمام بے قصوروں کو بغیر کسی گناہ کے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے،دس پندرہ سال تک کورٹ میں شنوائی نہ ہونے کی وجہ سے جب وہ جیل سے چھوٹ کر آتے ہیں تب تک ان کی زندگی برباد ہو جاتی ہے ساتھ ہی ان کے اہل خانہ کو طعنہ زنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے بے قصور لوگوں کو پھنسانے والوں کو سخت سزا دی جانی چاہئے دونوں قائدین نے یہ بھی کہا کہ ایسے متاثر افراد کو انصاف دلانے کے ساتھ ہی پچھڑوں دلتوں اقلیتوں کو ان کے تناسب کے اعتبار سے سبھی سطح پر حصہ داری دلانے کے لئے مہا سبھا کمر کس چکا ہے اور مستقبل قریب ہی میں عوامی تحریک چھڑے گا۔اس تعلق ۱۵ستمبر کو صدر جمہوریہ ،وزیر اعظم کو میمورنڈم دینے کے بعد ہی عوامی تحریک کااعلان کیا جائے گا۔کشواہا نے یہ بھی بتایا کہ پچھڑے دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ ملک ایک نیا بھارت بنائیں گے!